EN हिंदी
میں دن بھر پہلے اس دنیا کی جولانی میں رہتا ہوں | شیح شیری
main din bhar pahle is duniya ki jaulani mein rahta hun

غزل

میں دن بھر پہلے اس دنیا کی جولانی میں رہتا ہوں

مبین مرزا

;

میں دن بھر پہلے اس دنیا کی جولانی میں رہتا ہوں
مگر پھر رات بھر دل کی بیابانی میں رہتا ہوں

یہاں لوگوں کے دل اور چہرے ہر لحظہ بدلتے ہیں
مجھے لگتا ہے میں اک دشت امکانی میں رہتا ہوں

مجھے کچھ فکر فردا ہے نہ کوئی حال کی الجھن
کہ میں تو گزرے وقتوں کی پریشانی میں رہتا ہوں

جو اب تک کر نہیں پایا خلش جاں سوز ہے اس کی
جو کر بیٹھا ہوں اب اس کی پشیمانی میں رہتا ہوں

مجھے ہر روز یہ دنیا نئی صورت میں ملتی ہے
میں پیہم اس شناسائی کی حیرانی میں رہتا ہوں