EN हिंदी
میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے | شیح شیری
main bhag ke jaunga kahan apne watan se

غزل

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے

باقر مہدی

;

میں بھاگ کے جاؤں گا کہاں اپنے وطن سے
جیتا ہوں مصائب کی بقا میرے لیے ہے

سچ بولنے والے کو ڈراتے ہو ستم سے
رک جاؤ ٹھہر جاؤ جزا میرے لیے ہے

افسوس کٹی عمر کتب خانوں میں لیکن
یہ وسعت صحرا یہ فضا میرے لیے ہے

میں راہ یگانہ پہ ہمیشہ سے چلا ہوں
رسوائی تباہی تو سدا میرے لیے ہے

مجرم ہوں کہ فاشزم کے سائے میں ہوں جیتا
باقرؔ کو بچا لو یہ سزا میرے لیے ہے