EN हिंदी
میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے | شیح شیری
main agar aap se jaun to qarar aa jae

غزل

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

مومن خاں مومن

;

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

باندھو اب چارہ گرو چلے کہ وہ بھی شاید
وصل دشمن کے لیے سوئے مزار آ جائے

کر ذرا اور بھی اے جوش جنوں جنوں خوار و ذلیل
مجھ سے ایسا ہو کہ ناصح کو بھی عار آ جائے

نام بدبختی عشاق خزاں ہے بلبل
تو اگر نکلے چمن سے تو بہار آ جائے

جیتے جی غیر کو ہو آتش دوزخ کا عذاب
گر مری نعش پہ وہ شعلہ عذار آ جائے

کلفت ہجر کو کیا روؤں ترے سامنے میں
دل جو خالی ہو تو آنکھوں میں غبار آ جائے

محو دل دار ہوں کس طرح نہ ہوں دشمن جاں
مجھ پہ جب ناصح بیدرد کو پیار آ جائے

ٹھہر جا جوش تپش ہے تو تڑپنا لیکن
چارہ سازوں میں ذرا دم دل زار آ جائے

حسن انجام کا مومنؔ مرے بارے ہے خیال
یعنی کہتا ہے وہ کافر کہ تو مارا جائے