EN हिंदी
مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی | شیح شیری
mai ho saghar mein ki KHun raat guzar jaegi

غزل

مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی

سید عابد علی عابد

;

مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گی
دل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گی

دیکھنا یہ ہے کہ انداز سحر کیا ہوں گے
یوں تو ارباب جنوں رات گزر جائے گی

نہ رکا ہے نہ رکے قافلۂ لیل و نہار
رات کم ہو کہ فزوں رات گزر جائے گی

میں ترا محرم اسرار ہوں اے صبح بہار
جا کے پھولوں سے کہوں رات گزر جائے گی

مژدۂ صبح مبارک تمہیں اے دیدہ ورو
میں جیوں یا نہ جیوں رات گزر جائے گی

رات بھر میں نے سجائے سر مژگاں تارے
مجھ کو تھا وہم کہ یوں رات گزر جائے گی

صبح اٹھ کر تجھے رہ رو سے لپٹنا ہوگا
رہبر تیرہ دروں رات گزر جائے گی