EN हिंदी
محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا | شیح شیری
mahzun na ho huzur ab aata hai yar apna

غزل

محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

محزوں نہ ہو حضورؔ اب آتا ہے یار اپنا
کرتا ہے فضل تجھ پر پروردگار اپنا

جب سے گیا وہ مہ رو آغوش سے ہماری
رہتا ہے جیوں مہ نو خالی کنار اپنا

زلف و رخ صنم کے غم میں سدا رہے ہم
گزرا ہمیشہ یوں ہی لیل و نہار اپنا

اے بے خودیٔ مے تو آ دوش پر اٹھا لے
اٹھتا نہیں مجھ سے اب بوجھ بھار اپنا

محبوب ہیں جہاں تک نہیں آشنا کسو کے
ہوتے نہیں ہیں اپنے کیجے ہزار اپنا

کہنے سے شعر کے کچھ حاصل نہیں مگر ہاں
یہ ہے کہ بعد اپنے ہو یادگار اپنا

آزردہ کچھ ہیں شاید ورنہ حضورؔ مجھ سے
کیوں منہ پھلا رہا ہے وہ گلعذار اپنا