EN हिंदी
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو | شیح شیری
mahshar ki is ghaDi mein hamara koi to ho

غزل

محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو

راحیل فاروق

;

محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
اے رات اے فراق خدارا کوئی تو ہو

یہ بد دعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا کوئی تو ہو

تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو

سرکار ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب
اس نا مراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو

کیا ہجر کیا وصال وہی عاشقوں کا حال
آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو

راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر
اس بحر بیکراں کا کنارا کوئی تو ہو