محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو
آنکھوں سے بہنے دیجیے پانی ہی کیوں نہ ہو
نشے کا اہتمام سے رشتہ نہیں کوئی
پیغام اس کا آئے زبانی ہی کیوں نہ ہو
ایسے یہ غم کی رات گزرنا محال ہے
کچھ بھی سنا مجھے وہ کہانی ہی کیوں نہ ہو
کوئی بھی ساتھ دیتا نہیں عمر بھر یہاں
کچھ دن رہے گی ساتھ جوانی ہی کیوں نہ ہو
اس تشنگی کی قید سے جیسے بھی ہو نکال
پینے کو کچھ بھی چاہیے پانی ہی کیوں نہ ہو
دنیا بھی جیسے تاش کے پتوں کا کھیل ہے
جوکر کے ساتھ رہتی ہے رانی ہی کیوں نہ ہو
تصویر اس کی چاہیے ہر حال میں مجھے
پاگل ہو سرپھری ہو دوانی ہی کیوں نہ ہو
سونا تو یار سونا ہے چاہے جہاں رہے
بیوی ہے پھر بھی بیوی پرانی ہی کیوں نہ ہو
اب اپنے گھر میں رہنے نہ دیں گے کسی کو ہم
دل سے نکال دیں گے نشانی ہی کیوں نہ ہو
غزل
محفل میں آج مرثیہ خوانی ہی کیوں نہ ہو
منور رانا

