مغرور تھے اپنی ذات پر ہم
رونے لگے بات بات پر ہم
اے دل تری موت کا بھی غم ہے
خوش بھی ہیں تری نجات پر ہم
لٹ جائیں گے ضبط غم کے ہاتھوں
مر جائیں گے اپنی بات پر ہم
یہ بھی ترے غم کا آسرا ہے
ہنستے ہیں غم حیات پر ہم
کیا ناز تھا سیفؔ حوصلے پر
چپ ہو گئے ایک بات پر ہم
غزل
مغرور تھے اپنی ذات پر ہم
سیف الدین سیف

