EN हिंदी
مغرور تھے اپنی ذات پر ہم | شیح شیری
maghrur the apni zat par hum

غزل

مغرور تھے اپنی ذات پر ہم

سیف الدین سیف

;

مغرور تھے اپنی ذات پر ہم
رونے لگے بات بات پر ہم

اے دل تری موت کا بھی غم ہے
خوش بھی ہیں تری نجات پر ہم

لٹ جائیں گے ضبط غم کے ہاتھوں
مر جائیں گے اپنی بات پر ہم

یہ بھی ترے غم کا آسرا ہے
ہنستے ہیں غم حیات پر ہم

کیا ناز تھا سیفؔ حوصلے پر
چپ ہو گئے ایک بات پر ہم