EN हिंदी
مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا | شیح شیری
mayusi ki barf paDi thi lekin mausam sard na tha

غزل

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا

قیصر الجعفری

;

مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا
آج سے پہلے دل میں یارو! اتنا ٹھنڈا درد نہ تھا

تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں
زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد نہ تھا

پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار نہ تھی
شہر میں تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد نہ تھا

مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ
پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد نہ تھا

حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا
سینے کا پتھر تھا قیصرؔ، غم دامن کی گرد نہ تھا