مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا
آج سے پہلے دل میں یارو! اتنا ٹھنڈا درد نہ تھا
تنہائی کی بوجھل راتیں پہلے بھی تو برسی تھیں
زخم نہیں تھے اتنے قاتل غم اتنا بے درد نہ تھا
پھرتے ہیں اب رسوا ہوتے کل تک یہ رفتار نہ تھی
شہر میں تھیں سو کوئے ملامت دل آوارہ گرد نہ تھا
مرنے پر بھی لو دیتی تھی دیوانے کے دل کی آگ
پتھرائی تھیں آنکھیں لیکن پھول سا چہرہ زرد نہ تھا
حرف تسلی موج ہوا تھے موج ہوا سے ہوتا کیا
سینے کا پتھر تھا قیصرؔ، غم دامن کی گرد نہ تھا
غزل
مایوسی کی برف پڑی تھی لیکن موسم سرد نہ تھا
قیصر الجعفری

