EN हिंदी
ماورائے جہاں سے آئے ہیں | شیح شیری
mawara-e-jahan se aae hain

غزل

ماورائے جہاں سے آئے ہیں

حبیب جالب

;

ماورائے جہاں سے آئے ہیں
آج ہم خمستاں سے آئے ہیں

اس قدر بے رخی سے بات نہ کر
دیکھ تو ہم کہاں سے آئے ہیں

ہم سے پوچھو چمن پہ کیا گزری
ہم گزر کر خزاں سے آئے ہیں

راستے کھو گئے ضیاؤں میں
یہ ستارے کہاں سے آئے ہیں

اس قدر تو برا نہیں جالبؔ
مل کے ہم اس جواں سے آئے ہیں