EN हिंदी
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا | شیح شیری
marka ab ke hua bhi to phir aisa hoga

غزل

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا

محسن نقوی

;

معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا

اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا

کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا

میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا

رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا

یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا