EN हिंदी
مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی | شیح شیری
mar Dalegi hamein ye KHush-bayani aap ki

غزل

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی

رشید لکھنوی

;

مار ڈالے گی ہمیں یہ خوش بیانی آپ کی
موت کا پیغام آئے گا زبانی آپ کی

زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے
مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی

بعد مردن کھینچ لایا جذب دل سینے پہ ہاتھ
اک انگوٹھی میں جو پہنے تھا نشانی آپ کی

بڑھ چکا قد بھی فروغ حسن کی حد ہو چکی
اب تو قابل دیکھنے کے ہے جوانی آپ کی

آپ سے مل کے گلے راحت سے آ جاتی ہے نیند
سبزۂ خوابیدہ ہے پوشاک دھانی آپ کی

رنگ عالم کا بدلنا آپ کے صدقے میں ہے
جمع کر رکھی تھیں پوشاکیں پرانی آپ کی

آنکھوں پر بندھوائی پٹی تا نہ دیکھوں اور کو
مر گیا میں پر وہی ہے بد گمانی آپ کی

جب وہ مجھ کو دیکھتا ہے ہنس کے کہتا ہے رشیدؔ
کتنی پابند وفا ہے زندگانی آپ کی