معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں
دنیا میں جتنے منہ ہیں اتنی کہانیاں ہیں
معنی ترازیاں یا رنگیں بیانیاں ہیں
یہ بھی کہانیاں ہیں وو بھی کہانیاں ہیں
کیا مہربانیاں تھیں کیا مہربانیاں ہیں
وہ بھی کہانیاں تھیں یہ بھی کہانیاں ہیں
اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر
اتنی سی ہے حقیقت باقی کہانیاں ہیں
سنتا ہے کوئی کس کی کس کو سنائے کوئی
ہر ایک کی زباں پر اپنی کہانیاں ہیں
کچھ بات ہے جو چپ ہوں میں سب کی سن کے ورنہ
یاد اے وفاؔ مجھے بھی سب کی کہانیاں ہیں
غزل
معنی ترازیاں ہیں رنگیں بیانیاں ہیں
میلہ رام وفاؔ

