EN हिंदी
مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا | شیح شیری
mana wo ek KHwab tha dhoka nazar ka tha

غزل

مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا

رشید قیصرانی

;

مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا
اس بے وفا سے ربط مگر عمر بھر کا تھا

خوشبو کی چند مست لکیریں ابھار کر
لوٹا ادھر ہوا کا وہ جھونکا جدھر کا تھا

نکلا وہ بار بار گھٹاؤں کی اوٹ سے
اس سے معاملہ تو فقط اک نظر کا تھا

تم مسکرا رہے تھے تو شب ساتھ ساتھ تھی
آنسو گرے تھے جس پہ وہ دامن سحر کا تھا

ہم آج بھی خود اپنے ہی سائے میں گھر گئے
سر میں ہمارے آج بھی سودا سفر کا تھا

صحرا کے سر کی مانگ ہے اب تک وہ اک لکیر
حاصل جسے غرور تری رہ گزر کا تھا

کالی کرن یہ گنگ صداؤں کے دائرے
پہنچا کہاں رشیدؔ ارادہ کدھر کا تھا