EN हिंदी
معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی | شیح شیری
malum hai wo mujhse KHafa hai bhi nahin bhi

غزل

معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی

راشد آذر

;

معلوم ہے وہ مجھ سے خفا ہے بھی نہیں بھی
میرے لیے ہونٹوں پہ دعا ہے بھی نہیں بھی

مدت ہوئی اس راہ سے گزرے ہوئے اس کو
آنکھوں میں وہ نقش کف پا ہے بھی نہیں بھی

منہ کھول کے بولا نہیں جاتا کہ شفا دے
اس پاس مرے دل کی دوا ہے بھی نہیں بھی

کہتے تھے کبھی ہم کہ خدا ہے تو کہاں ہے
اب سوچ رہے ہیں کہ خدا ہے بھی نہیں بھی

رکھے بھی نظر بزم میں دیکھے بھی نہیں وہ
اوروں سے یہ انداز جدا ہے بھی نہیں بھی

گو زیست ہے مٹتی ہوئی سانسوں کا تسلسل
قسطوں میں یہ جینے کی سزا ہے بھی نہیں بھی

یا دل میں کبھی یا کبھی سڑکوں پہ ملیں گے
ہم خانہ خرابوں کا پتا ہے بھی نہیں بھی

ہم سے جو بنا سب کے لیے ہم نے کیا ہے
معلوم ہے نیکی کا صلہ ہے بھی نہیں بھی

وہ موم بھی ہے میرے لیے سنگ بھی آزرؔ
کہتے ہیں کہ اس دل میں وفا ہے بھی نہیں بھی