EN हिंदी
مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو | شیح شیری
mail-ba-karam mujh par ho jaen to achchha ho

غزل

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو

فنا بلند شہری

;

مائل بہ کرم مجھ پر ہو جائیں تو اچھا ہو
مقبول مرے سجدے ہو جائیں تو اچھا ہو

اس دشت نوردی سے پیچھا تو کہیں چھوٹے
ہم کوچۂ جاناں میں مر جائیں تو اچھا ہو

سر ہو در جاناں پہ دم اپنا نکل جائے
یہ کام محبت میں کر جائیں تو اچھا ہو

یوں تو سبھی آئے ہیں دفنانے مجھے لیکن
وہ بھی مری میت پہ آ جائیں تو اچھا ہو

پھر درد جدائی کا جھگڑا نہ رہے کوئی
ہم نام ترا لے کر مر جائیں تو اچھا ہو

دیکھیں نہ کسی کو ہم پھر دیکھ کے رخ تیرا
دیدار ترا کر کے مر جائیں تو اچھا ہو

رہ جائے محبت کا دنیا میں بھرم کچھ تو
دو پھول ہی تربت پہ دھر جائیں تو اچھا ہو

دھڑکا لگا رہتا ہے ہر وقت بلاؤں کا
ہم ساتھ نشیمن کے جل جائیں تو اچھا ہو

بدنام ہی کرنے کو آئیں وہ مگر آئیں
وہ اتنا کرم مجھ پر کر جائیں تو اچھا ہو

جا سکتے ہیں جانے کو ہم چل کے فناؔ دیکھیں
وہ خود ہمیں محفل میں بلوائیں تو اچھا ہو