EN हिंदी
لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت | شیح شیری
log bante hain hoshiyar bahut

غزل

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت

امیر قزلباش

;

لوگ بنتے ہیں ہوشیار بہت
ورنہ ہم بھی تھے خاکسار بہت

گھر سے بے تیشہ کیوں نکل آئے
راستے میں ہیں کوہسار بہت

تجھ سے بچھڑے تو اے نگار حیات
مل گئے ہم کو غم گسار بہت

ہاتھ شل ہو گئے شناور کے
اب یہ دریا ہے بے کنار بہت

ہم فقیروں کو کم نظر آئے
اس نگر میں تھے شہریار بہت

اس نے مجبور کر دیا ورنہ
ہم کو خود پر تھا اختیار بہت

ہم ہی اپنا سمجھ رہے تھے اسے
ہو گئے ہم ہی شرمسار بہت