EN हिंदी
لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیے | شیح شیری
lo andheron ne bhi andaz ujalon ke liye

غزل

لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیے

آل احمد سرور

;

لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیے
کیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیے

تازہ کاری نے وہاں کر دیئے عالم ایجاد
ہم ترستے ہی رہے تازہ خیالوں کے لیے

شاہراہوں سے گزرتے ہیں شب و روز ہجوم
نئی راہیں ہیں فقط چند جیالوں کے لیے

کام ماضی کی یہ سادہ نگہی کیا آتی
عصر حاضر ترے پیچیدہ سوالوں کے لیے

کتنی شمعیں بجھیں نادیدہ کرن کی خاطر
کتنے سورج لیے موہوم اجالوں کے لیے

کتنے سنگین حقائق سے نچوڑا ہے لہو
چند خوابوں کے لیے چند خیالوں کے لیے

گو نگہ داریٔ آداب جنوں مشکل ہے
پھر بھی آساں ہے ترے چاہنے والوں کے لیے