لے چلو مجھ کو اس آئینۂ رخسار کے پاس
خاک اس زیست پہ جو یار نہ ہو یار کے پاس
نرگس چشم کا مت رکھ دل رنجور خیال
یعنی بیمار کو رکھتے نہیں بیمار کے پاس
سر مرا تن سے اگر دور کیا سر صدقے
رکھیو قاتل تو مجھے اپنی ہی دیوار کے پاس
چشم مست اس کی سے آخر کو ہوئی ہم بھی خراب
ہے یہی اس کی سزا بیٹھے جو مے خوار کے پاس
یوں خیال اس کا سرافراز کرے ہے معروفؔ
شہہ قدم رنجہ کرے جوں کسو نادار کے پاس
غزل
لے چلو مجھ کو اس آئینۂ رخسار کے پاس
معروف دہلوی

