EN हिंदी
لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا | شیح شیری
laraz laraz ke na TuTen to wo sitare kya

غزل

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا

باقر مہدی

;

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا
جنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا

مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشن
نظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا

امید و بیم کی یہ کشمکش ہے راز حیات
سکوں نواز ہیں اس کے سوا سہارے کیا

کوئی ہزار مٹائے ابھرتے آئے ہیں
ہم اہل درد جنون جفا سے ہارے کیا