EN हिंदी
لرز جاتا ہے تھوڑی دیر کو تار نفس میرا | شیح شیری
laraz jata hai thoDi der ko tar-e-nafas mera

غزل

لرز جاتا ہے تھوڑی دیر کو تار نفس میرا

غلام حسین ساجد

;

لرز جاتا ہے تھوڑی دیر کو تار نفس میرا
سر میداں کبھی جب جست کرتا ہے فرس میرا

میں خود سے دور ہو جاتا ہوں اس سے دور ہونے پر
رہائی چاہتا ہوں اور مقدر ہے قفس میرا

ذرا مشکل سے اب پہچانتا ہوں ان مناظر کو
قیام اس خاک داں پر تھا ابھی پچھلے برس میرا

دعا کرتا ہوں ملنے کی تمنا کر نہیں پاتا
بھلا کیا سامنا کر پائیں گے اہل ہوس میرا

نہیں بھولے گی میری داستان عشق دنیا کو
کہ صحرا میں ابھی تک نام لیتی ہے جرس میرا

نمود عکس کی اس کو ضمانت کون دے ساجدؔ
نہیں ہے جب شگفت آئینہ پر کوئی بس میرا