EN हिंदी
لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے | شیح شیری
lamha lamha dard Tapakta rahta hai

غزل

لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے

منیش شکلا

;

لمحہ لمحہ درد ٹپکتا رہتا ہے
جانے اندر کون سسکتا رہتا ہے

اک آہٹ سی ہوتی رہتی ہے دل میں
اس صحرا میں کون بھٹکتا رہتا ہے

ہجر زدہ اک عاشق محو غم اکثر
ماضی کے اوراق پلٹتا رہتا ہے

پھول سی کوئی یاد ہے اس سے وابستہ
میرے دل کا زخم مہکتا رہتا ہے

دل جیسے میلے میں کھویا اک بچہ
ہر آہٹ کی اور لپکتا رہتا ہے

سر پر اتنی دھوپ سفر ہے صحرا میں
میرا سارا جسم جھلستا رہتا ہے

دل میں اتنی آگ نہیں جو جل اٹھے
بس یوں ہی چپ چاپ سلگتا رہتا ہے