EN हिंदी
لہو پکار کے چپ ہے زمین بولتی ہے | شیح شیری
lahu pukar ke chup hai zamin bolti hai

غزل

لہو پکار کے چپ ہے زمین بولتی ہے

س۔ ش۔ عالم

;

لہو پکار کے چپ ہے زمین بولتی ہے
میں جھومتا ہوں کہ یہ کائنات ڈولتی ہے

ابھی زمین پہ اترے گی اس دریچے سے
وہ روشنی جو مسافر کی راہ کھولتی ہے

مزا تو یہ ہے کہ وہ زہر میں بجھی آواز
کبھی کبھی مرے کانوں میں شہد گھولتی ہے

عجیب ربط ہے گونگی رفاقتوں سے مجھے
وہ سوچتا ہے تو میری زبان بولتی ہے

تلاش میں ہوں توازن کہیں نہیں ملتا
ہر ایک چہرہ کو میری نگاہ تولتی ہے

جو بے اڑان ہیں عالمؔ وہ کس شمار میں ہیں
ہوا بھی اڑتے پرندے کے پر ٹٹولتی ہے