EN हिंदी
لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی | شیح شیری
lahu mein kya bataen raushni kaisi mili thi

غزل

لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی

محمد اظہار الحق

;

لہو میں کیا بتائیں روشنی کیسی ملی تھی
ملی تھی بس محبت جس طرح کی بھی ملی تھی

بہت سی جمع کر رکھی تھیں اس نے کہکشائیں
میں رویا تو مجھے اک قاش سورج کی ملی تھی

اٹھاتے کس طرح پلکوں کی لمبائی کا جھگڑا
بہت مشکل سے آنکھیں اور بینائی ملی تھی

حیا تھی آنکھ میں گندم کے خوشے ہاتھ میں تھے
عجب حالت میں تھی جب مجھ کو عریانی ملی تھی

یہیں تھی جو نظر آئی تھی مشعل تھی کہ آتش
نبوت تھی کہ چنگاری زمیں پر ہی ملی تھی