EN हिंदी
لہو کو دل کے جو صرف بہار کر نہ سکے | شیح شیری
lahu ko dil ke jo sarf-e-bahaar kar na sake

غزل

لہو کو دل کے جو صرف بہار کر نہ سکے

سید حامد

;

لہو کو دل کے جو صرف بہار کر نہ سکے
علاج گردش لیل و نہار کر نہ سکے

خدا نہ کردہ گرے کوئی اپنی نظروں سے
نہ ہو کہ اپنا کوئی اعتبار کر نہ سکے

بھر آئی آنکھ سر بزم ہو گئے خاموش
ہم ان سے بات جو بیگانہ وار کر نہ سکے

وہ آ گئے تو سمٹ آئے سب نگاہوں میں
ہزاروں خواب کہ جن کا شمار کر نہ سکے

تمہارے سامنے اکثر رہی ہے نوک زباں
وہ ایک بات جو پایان کار کر نہ سکے

ہوئیں جو قلب میں پیوست ہو گیا چھلنی
وہ حسرتیں کہ جنہیں اشک بار کر نہ سکے

حریف کام و دہن بن گئیں فنا نہ ہوئیں
وہ تلخیاں کہ جنہیں خوش گوار کر نہ سکے

کسی سے ترک تعلق جنوں کی شہہ پا کر
ہزار بار کیا ایک بار کر نہ سکے