EN हिंदी
لہروں میں بدن اچھالتے ہیں | شیح شیری
lahron mein badan uchhaalte hain

غزل

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں

ایوب خاور

;

لہروں میں بدن اچھالتے ہیں
آؤ کہ فلک میں ڈوبتے ہیں

دنیا کی ہزار نعمتوں میں
ہم ایک تجھی کو جانتے ہیں

آنکھوں سے دکھوں کے سارے منظر
سارس کی اڑان اڑ گئے ہیں

ہنستے ہوئے بے غبار چہرے
بے وجہ اداس ہو رہے ہیں

کچھ دکھ تو خوشی کے باب میں تھے
باقی بھی نشان پا چکے ہیں

یوں بھی ہے کہ پیار کے نشے میں
کچھ سوچ کہ لوگ رو پڑے ہیں

ساون کی طرح سے لوگ آئے
خوشبو کی طرح سے گزر گئے ہیں

بہتے ہوئے دو بدن سمندر
ہونٹوں کے کنارے آ لگے ہیں

آنکھوں میں یہ کربلا کے منظر
اپنی ہی انا کے رت جگے ہیں