لفظوں کا سائبان بنا لینے دیجئے
سایوں کو طاق دل میں سجا لینے دیجئے
گہرے سمندروں کی تہیں مت کھنگالیے
دل کو کھلی ہوا کا مزا لینے دیجئے
سوچے گا ذہن سارے مسائل کے حل مگر
پہلے بدن کی آگ بجھا لینے دیجئے
کب تک مثال دشت سہیں موسموں کا جبر
خوابوں کا کوئی شہر بسا لینے دیجئے
یادوں کے کھیت سوکھ چلے اب تو جعفریؔ
تازہ غموں کی فصل اگا لینے دیجئے
غزل
لفظوں کا سائبان بنا لینے دیجئے
فضیل جعفری

