EN हिंदी
لبوں پہ ان کہی باتیں رکھی ہیں | شیح شیری
labon pe an-kahi baaten rakhi hain

غزل

لبوں پہ ان کہی باتیں رکھی ہیں

جیوتی آزاد کھتری

;

لبوں پہ ان کہی باتیں رکھی ہیں
مہکتی سرمئی شامیں رکھی ہیں

یہ جو در پہ ترے آنکھیں رکھی ہیں
ترے بیمار کی سانسیں رکھی ہیں

کبھی تو دیکھ آ کر کس طرح سے
لگا کر تہ تری یادیں رکھی ہیں

میں کیسے اب سمیٹوں زندگی کو
کہیں دن تو کہیں راتیں رکھی ہیں

تلاشی لے چکیں ہر ایک دل کی
سبھی میں بس گھٹن آہیں رکھی ہیں

عجب ہے زندگی کا کھیل جیوتیؔ
یہاں اپنو سے ہی ماتیں رکھی ہیں