لبوں پہ ان کہی باتیں رکھی ہیں
مہکتی سرمئی شامیں رکھی ہیں
یہ جو در پہ ترے آنکھیں رکھی ہیں
ترے بیمار کی سانسیں رکھی ہیں
کبھی تو دیکھ آ کر کس طرح سے
لگا کر تہ تری یادیں رکھی ہیں
میں کیسے اب سمیٹوں زندگی کو
کہیں دن تو کہیں راتیں رکھی ہیں
تلاشی لے چکیں ہر ایک دل کی
سبھی میں بس گھٹن آہیں رکھی ہیں
عجب ہے زندگی کا کھیل جیوتیؔ
یہاں اپنو سے ہی ماتیں رکھی ہیں
غزل
لبوں پہ ان کہی باتیں رکھی ہیں
جیوتی آزاد کھتری

