لب سئے دیکھا کروں سوچا کروں
میرے بس میں کچھ نہیں میں کیا کروں
راہ میں ہے درد کا کوہ گراں
کوہ کن بھی میں نہیں میں کیا کروں
شہر کے شور و شغب سے بھاگ کر
کوئی کنج عافیت ڈھونڈا کروں
گنجلک مگھم صداؤں کی طرح
گنبد تنہائی میں گونجا کروں
اور ان مبہم صداؤں کا اگر
کوئی مطلب ہو تو وہ لکھا کروں
اور جب اپنی سمجھ میں کچھ نہ آئے
چیخ اٹھوں کیا کروں میں کیا کروں
شہر کی ویرانیوں پر نوحہ گر
روح بن کر رات بھر بھٹکا کروں
غزل
لب سئے دیکھا کروں سوچا کروں
خالد احمد

