EN हिंदी
لب ساغر سے سن لو زاہدو تقر مے میخانہ | شیح شیری
lab-e-saghar se sun lo zahido taqrir-e-mai-KHana

غزل

لب ساغر سے سن لو زاہدو تقر مے میخانہ

دتا تریہ کیفی

;

لب ساغر سے سن لو زاہدو تقر مے میخانہ
شکست توبہ ہی ہے یا نئی تعمیر مے خانہ

ازل سے اس پہ رحمت ہے ابد تک اس پہ رحمت ہو
رقم ہے خط جام بادہ میں تقدیر مے خانہ

تو کیا اے زاہد خشک اس کی عظمت جان سکتا ہے
قلم سے موج کوثر کے کھچی تصویر مے خانہ

یہ مے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ دانائے‌ رموز دو جہاں ہے پیر مے خانہ

ملا پاؤ گے اس کا سلسلہ تسنیم و کوثر سے
بہت طول و طویل اے شیخ ہے زنجیر مے خانہ

بنا ہے شیشۂ مے سر بسر آئینہ محشر
بری زہد و ریا سے ہے جوان پیر مے خانہ

تو ساری عمر اب ماتھا رگڑتا رہ کڑا کے کر
نہ ٹالے سے ٹلے اے شیخ یہ تعزیر مے خانہ

دہائی ساقیٔ کوثر کی یہ ہیں نفس کے بندے
جو وصل حور کی خاطر کریں تحقیر مے خانہ

حباب خط جام و قلقل مینا سے ثابت ہے
وہ ہے تسبیح مے خانہ یہ ہے تکبیر مے خانہ

گرا جو خشت خم پر سر لب کوثر نے چوما ہے
کہ ہے تقصیر مے خانہ ہی میں توقیر مے خانہ

نہ کیوں ہر قطرۂ مے مہر کی آنکھوں کا تارا ہو
کہ برق طور کی ہے اک چمک تنویر مے خانہ

پڑی ہے اک نظر جس پر وہ بے خود ہو گیا کیفیؔ
نگاہ مست ساقی میں ہے کیا تاثیر مے خانہ