EN हिंदी
کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے | شیح شیری
kyun hai kah aaina is darja tu hairan mujhse

غزل

کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے

عشق اورنگ آبادی

;

کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سے
اپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سے

ہوں ہوا خواہ میں اے گل ترا جیوں موج نسیم
غنچہ ساں کب ہے گرہ کا ترے نقصاں مجھ سے

چشم مست اس کی نے دل توڑ کے پھیری ہے نظر
کہ نہ مانگے کہیں اس شیشہ کا تاواں مجھ سے

تیر نے خواب میں ہمدرد جو پایا اپنا
درد دل کہنے لگا ہو کے وہ گریاں مجھ سے

رم کا ہرنوں کے بگولے کی بھی بیتابی کا
راز سب واز کیا پھاڑ گریباں مجھ سے

گرم رکھتا تھا کہا مدرسہ جب وادی کا
علم وحشت کئے تحصیل غزالاں مجھ سے

سر پر اب خاک اڑاتا ہوا پھرتا ہوں عشقؔ
صاف دیکھا تو نہ تھی خاطر یاراں مجھ سے