EN हिंदी
کیا تم بھی طریقہ نیا ایجاد کرو ہو | شیح شیری
kya tum bhi tariqa naya ijad karo ho

غزل

کیا تم بھی طریقہ نیا ایجاد کرو ہو

سید شکیل دسنوی

;

کیا تم بھی طریقہ نیا ایجاد کرو ہو
خود اپنا بنا کر مجھے برباد کرو ہو

رکھو ہو ہر اک بار فسانے کو ادھورا
کب اپنے ستم شامل روداد کرو ہو

لگتا نہیں دلچسپ جو شیریں کا فسانہ
کیوں ذکر وفا کوشئ فرہاد کرو ہو

پل بھر کو تمہیں ہم سے بھلایا نہیں جاتا
بھولے سے کبھی تم بھی ہمیں یاد کرو ہو

دیکھو ہو کبھی آ کے یہ ویرانئ دل بھی
آنکھیں مری خوابوں سے جو آباد کرو ہو