کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف
پھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرف
چاندنی میں کل نکل بیٹھا تھا وہ خورشید رو
دیکھتا تھا میں کھڑا گوشے میں پنہاں یک طرف
طرفہ حالت تھی کبھی ہم نے نہ دیکھا تھا حضورؔ
ماہ تاباں یک طرف مہر درخشاں یک طرف
غزل
کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف
غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

