EN हिंदी
کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف | شیح شیری
kya rafu karne laga hai ja bhi nadan yak taraf

غزل

کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

کیا رفو کرنے لگا ہے جا بھی ناداں یک طرف
پھٹ چلی چھاتی کوئی دم میں گریباں یک طرف

چاندنی میں کل نکل بیٹھا تھا وہ خورشید رو
دیکھتا تھا میں کھڑا گوشے میں پنہاں یک طرف

طرفہ حالت تھی کبھی ہم نے نہ دیکھا تھا حضورؔ
ماہ تاباں یک طرف مہر درخشاں یک طرف