EN हिंदी
کیا ربط ایک درد سے بنتے چلے گئے | شیح شیری
kya rabt ek dard se bante chale gae

غزل

کیا ربط ایک درد سے بنتے چلے گئے

جلیل عالیؔ

;

کیا ربط ایک درد سے بنتے چلے گئے
جنگل میں جیسے راستے بنتے چلے گئے

کڑیاں کڑی قیود کی بڑھتی چلی گئیں
حیلے رہ نجات کے بنتے چلے گئے

ہونٹوں پہ کھل اٹھا تو ہوا داغ دل دعا
کیا کیا سخن کے سلسلے بنتے چلے گئے

کس صورت ثبات پہ ٹھہری نگاہ دل
اک رقص رو میں ٹوٹتے بنتے چلے گئے

بوتے رہے لہو کے دیئے ہم زمین میں
خورشید آسمان پے بنتے چلے گئے

عالؔی مقابلے کا نہ کوئی عدو رہا
ہم آپ اپنے دوسرے بنتے چلے گئے