EN हिंदी
کیا منزل غم سمٹ گئی ہے | شیح شیری
kya manzil-e-gham simaT gai hai

غزل

کیا منزل غم سمٹ گئی ہے

سیف الدین سیف

;

کیا منزل غم سمٹ گئی ہے
اک آہ میں راہ کٹ گئی ہے

پھر سامنے ہے پہاڑ سی رات
پھر شام سے نیند اچٹ گئی ہے

پہلو میں یہ کیسا درد اٹھا ہے
یہ کون سی راہ کٹ گئی ہے

آپ آئے نہیں تو موت کمبخت
آ آ کے پلٹ پلٹ گئی ہے

اٹھ اٹھ کے مریض غم نے پوچھا
کیا ہجر کی رات کٹ گئی ہے

پھر سیفؔ ہوائے یاد رفتہ
ہر غم کی نقاب الٹ گئی ہے