EN हिंदी
کیا خریدوگے چار آنے میں | شیح شیری
kya KHaridoge chaar aane mein

غزل

کیا خریدوگے چار آنے میں

امیر قزلباش

;

کیا خریدوگے چار آنے میں
عقل مندی ہے گھر نہ جانے میں

تبصرہ کر رہے ہیں دنیا پر
چند بچے شراب خانے میں

پرسش حال کر رہے ہیں لوگ
کیا بگڑتا ہے مسکرانے میں

اے مصور یہ سرخ رو چہرہ
ایسی تصویر اس زمانے میں

گھر میں اندھیر کر گیا کوئی
دیر کر دی چراغ لانے میں

چھپ کے بیٹھی ہوئی ہے موت کہیں
زندگی تیرے شامیانے میں

بے لباسی نصیب ہے اس کا
خواب بنتا ہے کارخانے میں