EN हिंदी
کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے | شیح شیری
kya din the jab chhup chhup kar tum pas hamare aate the

غزل

کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے

مرزا محمد تقی ہوسؔ

;

کیا دن تھے جب چھپ چھپ کر تم پاس ہمارے آتے تھے
کانپتے تھے بدنامی کے ڈر سے آنسو پی پی جاتے تھے

ہائے جوانی کیا موسم تھا اب وہ دن یاد آتے ہیں
روٹھتے تھے ہم ہر دم ان پہ اور وہ آ کے مناتے تھے

ہائے غضب ہے مجھ وحشی کو اس موسم میں قید کیا
سن جب شور فصل بہاراں مرغ قفس گھبراتے تھے

ذکر کیا میں آپ کا کس سے کس کے آگے نام لیا
دشمن تھے وہ لوگ مرے جو آپ کے تئیں بہکاتے تھے

ہائے وہ پہلے چاہ کا عالم کس سے میں اظہار کروں
میں تو حجاب سے آپ خجل تھا وہ مجھ سے شرماتے تھے

اس سے ہوسؔ ملنا مشکل تھا پر وہ ہم سے دور نہ تھے
ان کی ہی تصویر سے ہر دم اپنا جی بہلاتے تھے