EN हिंदी
کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں | شیح شیری
kya adu kya dost sab ko bha gain ruswaiyan

غزل

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں

فارغ بخاری

;

کیا عدو کیا دوست سب کو بھا گئیں رسوائیاں
کون آ کر ناپتا احساس کی پہنائیاں

اب کسی موسم کی بے رحمی کا کوئی غم نہیں
ہم نے آنکھوں میں سجائی ہیں تری انگڑائیاں

آپ کیا آئے بہاروں کے دریچے کھل گئے
خوشبوؤں میں بس گئیں ترسی ہوئی تنہائیاں

چاند بن کر کون اترا ہے قبائے جسم میں
جاگ اٹھی ہیں خیال و فکر کی گہرائیاں

دل پہ ہے چھایا ہوا بیدار خوابوں کا طلسم
ذہن کے آنگن میں لہراتی ہیں کچھ پرچھائیاں

آج فارغؔ اجڑے اجڑے سے ہیں غالبؔ کی طرح
یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں