EN हिंदी
کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی | شیح شیری
kuchh to ho dard ki lazzat hi sahi

غزل

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی

پنڈت جگموہن ناتھ رینا شوق

;

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی
تیری الفت میں اذیت ہی سہی

درد کو درد نہ جب تو سمجھے
بد گمانی تری عادت ہی سہی

دل مہجور میں ارمان وصال
نہ سہی دید کی حسرت ہی سہی

بت کدہ چھوڑنے والے تو نہ تھے
خیر ملتی ہے تو جنت ہی سہی

دل کو تھا خاک میں ملنا سو ملا
دیکھنے والوں کو عبرت ہی سہی

اس ستم گار نے کر لی توبہ
اے فلک ہاں کوئی آفت ہی سہی

کوئی جلوہ نظر آئے شاید
ٹکٹکی بندھنے کی عادت ہی سہی

ہیں کسی جلوے کی آنکھیں مشتاق
کچھ کم و بیش یہ غفلت ہی سہی

عشق کی بولتی تصویر ہے شوقؔ
دیکھنے والوں کو حیرت ہی سہی