EN हिंदी
کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا | شیح شیری
kuchh taur nahin bachne ka zinhaar hamara

غزل

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا

عبدالرحمان احسان دہلوی

;

کچھ طور نہیں بچنے کا زنہار ہمارا
جی لے ہی کے جاوے گا یہ آزار ہمارا

کوچہ سے ترے کوچ ہے اے یار ہمارا
جی لے ہی چلی حسرت دیدار ہمارا

تو ہم کو اٹھا لیجیو اس وقت الٰہی
جس وقت اٹھے پہلو سے دل دار ہمارا

یارا ہے کہاں اتنا کہ اس یار کو یارو
میں یہ کہوں اے یار ہے تو یار ہمارا

ہم پادشہ مملکت عشق ہیں ناحق
منصور سا مارا گیا سردار ہمارا

کہہ دیجیو مکھولی کو اے گردش طالع
ہاں جلدی سے لا تخت ہوا دار ہمارا

ابرو کی تری بیت کی کیا بات ولیکن
ہے آہ کا مصرعہ بھی دھواں دار ہمارا

احساںؔ تو غزل فارسی ہی اپنی کہا کر
دل ریختہ تیرے سے ہے بیزار ہمارا