EN हिंदी
کچھ سلگتے ہوئے خوابوں کی فراوانی ہے | شیح شیری
kuchh sulagte hue KHwabon ki farawani hai

غزل

کچھ سلگتے ہوئے خوابوں کی فراوانی ہے

عامر نظر

;

کچھ سلگتے ہوئے خوابوں کی فراوانی ہے
شہر احساس میں آئندہ کی تابانی ہے

ساعت شام کا دروازہ پگھل جائے گا
چشم امید میں وہ شعلۂ امکانی ہے

جسم پر اپنے بھی پوشاک سنبھالے رکھئے
سینۂ دشت پہ اتری شب عریانی ہے

کب تلک ٹوٹتی سانسوں پہ صدائیں رکھوں
حلقۂ زیست کی زنجیر بھی لایعنی ہے

اب کہاں جا کے یہ زرداب نظر ٹھہرے گی
دور تک پھیلی ہوئی سرحد ویرانی ہے

لوح بے رنگ پہ تو عکس خودی روشن ہے
پیکر خاک کے چہرے پہ پریشانی ہے

تر بہ تر ہو گئے حالات کے چہرے عامرؔ
اہل دامان خرد پر بڑی حیرانی ہے