EN हिंदी
کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے | شیح شیری
kuchh naqsh huwaida hain KHayalon ki Dagar se

غزل

کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے

اختر ہوشیارپوری

;

کچھ نقش ہویدا ہیں خیالوں کی ڈگر سے
شاید کبھی گزرا ہوں میں اس راہگزر سے

گلیاں بھی ہیں سنسان دریچے بھی ہیں خاموش
قدموں کی یہ آواز در آئی ہے کدھر سے

طاقوں میں چراغوں کا دھواں جم سا گیا ہے
اب ہم بھی نکلتے نہیں اجڑے ہوئے گھر سے

کیوں کاغذی پھولوں سے سجاتا نہیں گھر کو
اس دور کو شکوہ ہے مرے ذوق ہنر سے

سائے کی طرح کوئی تعاقب میں رواں ہے
اب بچ کے کہاں جائیں گے اک شعبدہ گر سے

اخترؔ یہ گھنے ابر بڑے تنگ نظر ہیں
اٹھے ہیں جو دریا سے تو دریا پہ ہی برسے