EN हिंदी
کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا | شیح شیری
kuchh nahin likkha hua phir bhi paDha jata hai kya

غزل

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

شاہین عباس

;

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا
ایسی ناموجود کو دنیا کہا جاتا ہے کیا

ہم سخن تیرے مخاطب کا پتا کیسے کروں
بولنا تھا کیا تجھے اور بولتا جاتا ہے کیا

ایک دروازہ اور اندر دور تک کوئی نہیں
آتے جاتے جھانک لینے سے ترا جاتا ہے کیا

اس اندھیرے میں پڑے اک شخص کو دیکھا کبھی
پاؤں سے ٹکرائے تو بانہوں میں آ جاتا ہے کیا

ہم ادھر ہیں حشر اٹھا دیتے ہیں جب اٹھتی ہے لہر
تم ادھر ہو ہاتھ اٹھا دو سب سنا جاتا ہے کیا

میں کہ تیرا تیسرا غم ہوں سو یہ غم بھی تو کر
تو کہ بس ہونے نہ ہونے پر مرا جاتا ہے کیا