EN हिंदी
کچھ نہ کچھ عہد محبت کا نشاں رہ جائے | شیح شیری
kuchh na kuchh ahd-e-mohabbat ka nishan rah jae

غزل

کچھ نہ کچھ عہد محبت کا نشاں رہ جائے

پریم کمار نظر

;

کچھ نہ کچھ عہد محبت کا نشاں رہ جائے
آگ بجھتی ہے تو بجھ جائے دھواں رہ جائے

دشت در دشت اڑے میرا غبار ہستی
آب بر آب مرا نام و نشاں رہ جائے

منتظر کون ہے کس کا یہ اسے کیا معلوم
اس کی منزل ہے وہی جو بھی جہاں رہ جائے

یوں تو کہنے کو بہت کچھ تھا غزل میں لیکن
لطف کی بات وہی ہے جو نہاں رہ جائے