EN हिंदी
کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے | شیح شیری
kuchh log samajhne hi ko tayar nahin the

غزل

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے

رضی اختر شوق

;

کچھ لوگ سمجھنے ہی کو تیار نہیں تھے
ہم ورنہ کوئی عقدۂ دشوار نہیں تھے

صد حیف کہ دیکھا ہے تجھے دھوپ سے بے کل
افسوس کہ ہم سایۂ دیوار نہیں تھے

ہم اتنے پریشاں تھے کہ حال دل سوزاں
ان کو بھی سنایا کہ جو غم خوار نہیں تھے

سچ یہ ہے کہ اک عمر گزاری سر مقتل
ہم کون سے لمحے میں سر دار نہیں تھے

مانا کہ بہت تیز تھی رفتار حوادث
ہم بھی کوئی گرتی ہوئی دیوار نہیں تھے

یہ اس کی عنایت ہے کہ اپنا کے تمہیں شوقؔ
وہ زخم دیے جن کے سزاوار نہیں تھے