کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں
کہ جن راہوں میں اجڑے تھے انہی پر لوٹ آئے ہیں
بڑا پیارا ہے وہ غم جس کو تیرے چاہنے والے
زمانے بھر کی خوشیوں کے تصدق مانگ لائے ہیں
دہکتا ہے کلیجے میں کسک کا کوئلہ اب تک
ابھی تک دل کے بام و در پہ ہجر و غم کے سائے ہیں
ہمیں دیکھو ہمارے پاس بیٹھو ہم سے کچھ سیکھو
ہمیں نے پیار مانگا تھا ہمیں نے داغ پائے ہیں

غزل
کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں
کشور ناہید