EN हिंदी
کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں | شیح شیری
kuchh itne yaad mazi ke fasane hum ko aae hain

غزل

کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں

کشور ناہید

;

کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں
کہ جن راہوں میں اجڑے تھے انہی پر لوٹ آئے ہیں

بڑا پیارا ہے وہ غم جس کو تیرے چاہنے والے
زمانے بھر کی خوشیوں کے تصدق مانگ لائے ہیں

دہکتا ہے کلیجے میں کسک کا کوئلہ اب تک
ابھی تک دل کے بام و در پہ ہجر و غم کے سائے ہیں

ہمیں دیکھو ہمارے پاس بیٹھو ہم سے کچھ سیکھو
ہمیں نے پیار مانگا تھا ہمیں نے داغ پائے ہیں