کچھ اس طرح سے ہے میرے اثر میں تنہائی
نہ دیکھ پائے کوئی اک نظر میں تنہائی
نکل کے گھر سے اکیلے نہیں رہیں گے ہم
ہمارے ساتھ رہے گی سفر میں تنہائی
ہجوم جسموں کا ملتا ہے مسکراتا ہوا
دلوں میں جھانکے تو ہے ہر بشر میں تنہائی
مرے وجود کے اندر اتر گئی شاید
ازل سے پھیلی ہوئی تھی جو گھر میں تنہائی
مری طرح سے کوئی اور بھی اکیلا تھا
پتہ چلا جو پڑھی اک خبر میں تنہائی
خیال آپ کا آتا ہے اور جاتا ہے
کبھی ہے بزم کبھی لمحہ بھر میں تنہائی
غزل
کچھ اس طرح سے ہے میرے اثر میں تنہائی
سیا سچدیو

