کچھ اس انداز سے مانگا گیا دل
خوشامد کر کے دے دینا پڑا دل
ارے دل اے میرے دل بے وفا دل
تو کیا مانگوں خدا سے دوسرا دل
گلے شکوؤں کی کر لیجے صفائی
برا کیوں کیجئے اچھا بھلا دل
ہوئے خاموش تو رلوا کے چھوڑا
اگر کی بات تو برما دیا دل
مجھے تو بخشئے اور جینے دیجے
مبارک آپ ہی کو آپ کا دل
وہ مقتل ہی سہی محفل کسی کی
مگر کب مانتا ہے منچلا دل
نہ کہنے دے گی یہ چشم مروت
نہ پوچھے ہم سے کوئی کیا ہوا دل
پھر اب کاہے کی ہے صاحب سلامت
تمہیں درکار تھا دل دے دیا دل
بدوں سے بھی نہیں کرتے برائی
ہم ایسا سب کو دے منظرؔ خدا دل
غزل
کچھ اس انداز سے مانگا گیا دل
منظر لکھنوی

