کوئی وعدا نہ دیں گے دان میں کیا
جھوٹ تک اب نہیں زبان میں کیا
میری حالت پہ آنکھ میں آنسو
درد در آیا کچھ چٹان میں کیا
کیوں جھجھکتا ہے بات کہنے میں
جھوٹ ہے کچھ ترے بیان میں کیا
سچ عدالت میں کیوں نہیں بولے
کانٹے اگ آئے تھے زبان میں کیا
رات دن سنتا ہوں تری آہٹ
نقص پیدا ہوا ہے کان میں کیا
مجھ پہ تو ظلم کیوں نہیں کرتا
اب نہیں ہوں تری امان میں کیا
تو تو رہتا ہے دھیان میں میرے
میں بھی رہتا ہوں ترے دھیان میں کیا
وہی چہرہ نظر نہیں آتا
دھول اڑنے لگی جہان میں کیا

غزل
کوئی وعدا نہ دیں گے دان میں کیا
طفیل چترویدی