EN हिंदी
کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے | شیح شیری
koi mazi ke jharokon se sada deta hai

غزل

کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے

احمد راہی

;

کوئی ماضی کے جھروکوں سے صدا دیتا ہے
سرد پڑتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتا ہے

دل افسردہ کا ہر گوشہ چھنک اٹھتا ہے
ذہن جب یادوں کی زنجیر ہلا دیتا ہے

حال دل کتنا ہی انسان چھپائے یارو
حال دل اس کا تو چہرہ ہی بتا دیتا ہے

کسی بچھڑے ہوئے کھوئے ہوئے ہم دم کا خیال
کتنے سوئے ہوئے جذبوں کو جگا دیتا ہے

ایک لمحہ بھی گزر سکتا نہ ہو جس کے بغیر
کوئی اس شخص کو کس طرح بھلا دیتا ہے

وقت کے ساتھ گزر جاتا ہے ہر اک صدمہ
وقت ہر زخم کو ہر غم کو مٹا دیتا ہے